امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں اپنی افواج کو تیار رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی وسائل اور عسکری سازوسامان بھیجنے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کو ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کا یہ مطلب نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے، تاہم فوج کو ممکنہ آپریشن کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اگر فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا تو اس میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے جاسکتے ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، توانائی کے مراکز اور اہم بنیادی ڈھانچہ شامل ہوسکتا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کسی نئے فوجی آپریشن کی صورت میں اسرائیلی فوج بھی اس کا حصہ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف کسی نئے آپریشن کا باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔ یہ فوجی تیاریاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی سطح پر تنازع کے حل کے لیے رابطے بھی کیے جارہے ہیں
