(نجیم زیدی کی خصوصی رپورٹ)مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں ڈیپوٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ڈیپوٹیشن کی مقررہ مدت مکمل ہونے کے باوجود متعدد افسران کئی کئی سال سے اپنے اصل محکموں میں واپس نہیں گئے۔دستیاب تفصیلات کے مطابق اوورسٹے کرنے والے افسران میں بڑی تعداد محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افسران کی ہے۔ سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی راحیلہ فرحین 14 سال 8 ماہ کے اوورسٹے پر کابینہ ڈویژن میں تعینات ہیں، جبکہ محکمہ تعلیم بلوچستان کے تنویر کاکڑ بھی 14 سال 8 ماہ کے اوورسٹے کے باوجود کابینہ ڈویژن میں تعینات ہیں۔محکمہ تعلیم بلوچستان کے حسن محمود 14 سال 5 ماہ کے اوورسٹے پر وزارتِ صنعت و پیداوار میں تعینات رہے۔ بلوچستان سے ویٹرنری آفیسر محمد اسماعیل 13 سال 10 ماہ کے اوورسٹے پر وزارتِ خزانہ میں تعینات رہے، جبکہ خیبر پختونخوا سے سبجیکٹ اسپیشلسٹ شہادت علی 12 سال کے اوورسٹے پر وزارتِ صنعت و پیداوار میں تعینات رہے۔محکمہ تعلیم سندھ کے عبدالصبور بھٹو بھی 10 سال 2 ماہ کے اوورسٹے پر وزارتِ خزانہ میں تعینات ہیں۔ سندھ اسمبلی کی راحیلہ سندیلو 10 سال 2 ماہ کے اوورسٹے پر کشمیر افیئرز اینڈ گلگت بلتستان میں تعینات ہیں، جبکہ سینئر انجینئر نیسپاک محمد اسامہ شہباز 7 سال کے اوورسٹے پر ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق اوورسٹے کرنے والے افسران کو مرحلہ وار ان کے متعلقہ محکموں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ایف پی ایس سی کی مشاورت سے سالانہ کیلنڈر مرتب کیا جا رہا ہے۔اس وقت 99 سیکشن آفیسرز کی ٹریننگ کا عمل جاری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ نئے سیکشن آفیسرز کی جوائننگ کے بعد افسران کی قلت ختم ہو جائے گی اور نئے افسران کی تعیناتی کے بعد اوورسٹے کرنے والے افسران کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ڈسٹرکٹ نیوز — خبر وہی، جو حقیقت کے قریب ہو
