پنجاب اسمبلی کے سامنے جماعت اسلامی کے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت 20 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے مارچ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کرے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنوں کی تعداد 40 تک پہنچ چکی ہے جبکہ احتجاج کا 30واں روز ہے۔ ان کے مطابق دھرنے اب ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور خواتین سمیت عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید ایک دن مانگا ہے، تاہم مذاکرات آج ہوں یا کل، جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم لیوی کے خاتمے کے متبادل کے حوالے سے حکومت کو 6 تجاویز پیش کرچکی ہے، اس لیے یہ مؤقف قابل قبول نہیں کہ لیوی ختم کرنے کی صورت میں حکومتی اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کے ریلیف پیکیج کو خوش آئند لیکن ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے حالات میں فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف بھی عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
شرح سود کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ مانیٹری پالیسی کے اجلاس میں شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سود کا مکمل خاتمہ ضروری ہے جبکہ شرح سود میں کمی سے حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے مالی گنجائش بھی حاصل ہوسکتی ہے۔
