اسلام آباد: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی تعاون کا فریم ورک تشکیل دیا ہے، جس میں یہ اصول شامل ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تینوں کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو ایک مشترکہ دفاعی انتظام میں جوڑتا ہے، جس کا مقصد خطے میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ بڑھانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیت، دفاعی تجربہ اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اس نئے دفاعی فریم ورک کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی علاقائی صف بندیوں کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط اور مشترکہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
