پی ٹی آئی کے اجلاس میں مذاکرات اور لانگ مارچ سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ غور
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی و کور کمیٹی اجلاس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں مذاکرات، لانگ مارچ اور پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے متعلق ارکان کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران سلمان اکرم راجہ سمیت بعض رہنماؤں نے ملک میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی رائے دی۔ بعض ارکان نے تجویز دی کہ اگر حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے اس کی تاریخ آگے بڑھانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی زیرِ غور آئی کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی صورت میں سیاسی معاملات کے حل کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ بعض ارکان نے رائے دی کہ ایسی ملاقات میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی شریک ہوں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کو مؤخر یا منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
علی محمد خان نے رائے دی کہ لانگ مارچ اسی صورت میں مؤخر کیا جاسکتا ہے جب حکومت سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائے، بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی بہنوں کی رہائی کے بعد ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ میڈیکل بورڈ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے دیرینہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل کیا جائے۔
اجلاس میں حکومت سے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔
