یہ تصنیف غالب کی شخصیت، فکر اور اسفار کے مختلف پہلووں کو نئی جہتوں کے ساتھ اجاگر کرتی ہے، مقررین
ملتان(ڈسٹرکٹ نیوز) ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام ممتاز ماہرِ تعلیم، ادیب اور سماجی رہنما ڈاکٹر ریاض حسین کی نئی تصنیف “اسفارِ غالب: ایک تحقیقی مطالعہ” کی پروقار تقریبِ رونمائی گزشتہ روز ملتان کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کی جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف چکوال پروفیسر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی، ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ جنوبی پنجاب محمد سجاد جہانیہ، پرو ریکٹر این سی بی اے اینڈ ای پروفیسر ڈاکٹر محمد عاصم رجوانہ، ماہر غالبیات ڈاکٹر شکیل پتافی، منیر حسین جنجوعہ، مسز فوزیہ ریاض اور صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی یافتہ شاعر و ادیب شاکر حسین شاکر نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف چکوال پروفیسر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی، محمد سجاد جہانیہ، پروفیسر ڈاکٹر محمد عاصم رجوانہ، ڈاکٹر شکیل پتافی، منیر حسین جنجوعہ، مسز فوزیہ ریاض اور شاکر حسین شاکر نے ڈاکٹر ریاض حسین کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی نئی کتاب “اسفارِ غالب” کو غالبیات کے حوالے سے ایک اہم تحقیقی اضافہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصنیف غالب کی شخصیت، فکر اور اسفار کے مختلف پہلوو ¿ں کو نئی جہتوں کے ساتھ اجاگر کرتی ہے اور تحقیق و تنقید کے میدان میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر مرید حسین ملک، ڈاکٹر ابرار عبدالسلام، ڈاکٹر جاوید پتافی، پروفیسر محمد طفیل، سعد مسعود غنی، پروفیسر علی سخن ور، ڈاکٹر مقبول گیلانی اور ادیب احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کتاب کے مختلف علمی و ادبی پہلوو ¿ں پر روشنی ڈالی اور مصنف کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا۔مصنفِ کتاب ڈاکٹر ریاض حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ “اسفارِ غالب” کئی برسوں کی تحقیق، مطالعہ اور ادبی جستجو کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب کی شخصیت اور فکر کو محض شاعری تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کے اسفار، مشاہدات اور حالاتِ زندگی کو سمجھنا بھی ان کے فکری و ادبی مقام کے ادراک کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کتاب کی تیاری میں معاونت کرنے والے اہل علم، دوستوں اور اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تحقیق و مطالعہ کے فروغ کے لیے ادبی و علمی سرگرمیوں کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے۔صدر تقریب پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تحقیق و مطالعہ کے فروغ کے لیے ایسی علمی سرگرمیاں نہایت ضروری ہیں اور ڈاکٹر ریاض حسین کی یہ کاوش نوجوان نسل کو ادب اور تحقیق کی جانب راغب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔تقریب کے میزبان اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے تمام معزز مہمانوں، مقررین، ادباء، شعراءاور شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن مستقبل میں بھی علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گی تقریب کے شرکاءمیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی مظفر گڑھ ڈاکٹر طاہرہ رفیق، سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سپیشل ایجوکیشن میاں محمد ماجد، فیاض احمد اعوان، پروفیسر آصف جہانگیر، نسیم عباس، محمد حسنین، رشید عباس خان، رانا حاکم علی، نعمان رزاق، خالد حبیب، عبدالاحد حسین، حفصہ حسین، نوید حسین ایڈووکیٹ و دیگر شامل تھے تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر ریاض حسین کو ان کی ادبی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا جبکہ شرکاءنے کتاب کی اشاعت کو اردو ادب کے لیے ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا۔