کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق کان کنوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے، جبکہ مزید 14 مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی کے مطابق پی ڈی ایم اے، مائنز ریسکیو، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کان میں پھنسے مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے شفاف انکوائری کرانے اور اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔
بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات ایک بار پھر کان کنوں کی حفاظت، حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد اور کان کنی کے شعبے میں نگرانی کے مؤثر نظام سے متعلق سوالات کو اجاگر کر رہے ہیں