عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کردیا ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ہے۔ ادارے نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ برقرار رکھا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی پیش گوئی 8.4 فیصد سے بڑھا کر 9.9 فیصد کردی ہے، جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا تھا۔ اس پیش گوئی کے بعد مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت نے 4 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو توقع ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد سے تجاوز کرجائے گی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ بھی بڑھا کر 4.4 ارب ڈالر کردیا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک فیصد کے برابر ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک کی شرح سود سے متعلق پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
آئی ایم ایف کی نئی پیش گوئی کے مطابق مہنگائی کا دباؤ حکومتی اہداف کے مقابلے میں زیادہ رہ سکتا ہے، جبکہ معاشی ترقی کی شرح حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔
