بھارت میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ اور منشیات کے کاروبار کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، جبکہ بھارتی شہر گوا کو منشیات کا گڑھ قرار دیا گیا ہے۔
بھارتی جریدے دی ہانس انڈیا کے مطابق ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی اور امیت شاہ کی سرپرستی کے باعث گوا میں منشیات کا کاروبار فروغ پا رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی جریدے دکن کرانیکل کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پالیسیوں سے گوا کے شہری حکومت سے ناخوش ہیں۔
رپورٹس میں عالمی سطح پر سرگرم بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منشیات اور بین الاقوامی جرائم کو ریاستی سرپرستی حاصل ہو تو یہ متعلقہ حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
گوا میں منشیات کے کاروبار اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے حوالے سے سامنے آنے والے ان دعوؤں نے بھارت میں حکومتی پالیسیوں اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات پر بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
