کراچی: پیٹرولیم لیوی، اضافی ٹیکسز اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے۔ جماعت اسلامی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں اور اہم شاہراہوں پر مجموعی طور پر 510 مقامات پر احتجاج کیا گیا۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ متعدد مقامات پر احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے شاہراہ فیصل سمیت شہر کی متعدد اہم سڑکوں پر احتجاج کیا۔ مختلف علاقوں سے آنے والی ریلیاں مزار قائد کے اطراف پہنچیں، جہاں سے مرکزی احتجاجی ریلی شاہراہ قائدین کے راستے شاہراہ فیصل پہنچی۔
جماعت اسلامی کے کارکنوں نے نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے، حب ریور روڈ، شاہراہ اورنگی، شاہراہ کورنگی اور شاہراہ پاکستان سمیت مختلف مقامات پر دھرنے دیے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور جماعت اسلامی کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شاہراہ فیصل پر احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سینکڑوں اہم مقامات پر ہونے والا احتجاج عوام کی معاشی مشکلات پر تشویش کا اظہار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ کم کیا جائے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اسلام آباد میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں نے موٹروے چوک پر احتجاج کیا، جبکہ راولپنڈی میں لیاقت باغ چوک پر دھرنا دیا گیا۔ لاہور میں مختلف شاہراہوں پر احتجاجی سرگرمیاں ہوئیں اور کارکنوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں نے احتجاجی دھرنے دیے۔ جماعت اسلامی کے مطابق پشاور، چارسدہ، رشکئی اور دیگر مقامات کے انٹرچینجز پر احتجاجی کیمپ لگائے گئے۔ صوبے کی متعدد اہم شاہراہوں پر احتجاج کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی، تاہم ایمبولینسز کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔
کوئٹہ میں میاں غنڈی چوک، کرک میں انڈس ہائی وے، بنوں میں سی پیک چوک اور چکدرہ انٹرچینج سمیت مختلف مقامات پر بھی احتجاج کیا گیا۔
حافظ نعیم کا آئندہ دھرنوں کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر پیٹرولیم لیوی، اضافی ٹیکسز اور مہنگی بجلی کا بوجھ مزید قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری مہنگائی سے شدید متاثر ہے، اس لیے حکمرانوں کو عوامی مشکلات کا ازالہ کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے احتجاج میں شریک کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سیاسی، تاجر اور وکلا تنظیموں کی جانب سے احتجاج کی حمایت حوصلہ افزا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز جبکہ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر آئندہ احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھنے کا ارادہ ہے جب تک پیٹرولیم لیوی، اضافی ٹیکسز اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی۔
