امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے معروف امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع ہونے والے اپنے مضمون کے ذریعے سندھ طاس معاہدے پر بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس معاہدے کی تاریخ، حیثیت اور بنیادی مقصد کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
پاکستانی سفیر نے امریکا میں بھارتی سفیر کی جانب سے یکم اگست 2026 کو شائع کیے گئے مضمون میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی شرائط دونوں ممالک کے لیے قابلِ عمل اور پابندی کے قابل ہیں۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی قانونی طور پر مؤثر اور نافذ العمل ہے اور پاکستان و بھارت دونوں اس کی پاسداری کے پابند ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی اصل روح اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اس پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی تنازع کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے بین الاقوامی قانون اور معاہدے میں موجود طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت عائد ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی یا اسے یکطرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کی کوشش نہ صرف قانونی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس کے اثرات جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور باہمی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
