جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال، کراچی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند، کئی مقامات پر کشیدگی
کراچی: پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث کراچی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ بعض مقامات پر کارکنان، تاجروں اور پولیس کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
کراچی میں کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹائر نذر آتش کیے، جبکہ دو موٹر سائیکلیں بھی جلائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
موسمیات، صفورا چورنگی اور اطراف کے علاقوں میں بھی بعض افراد نے دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کروائے۔ شہر کے بیشتر مرکزی بازاروں اور تجارتی مراکز میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی، تاہم جوڑیا بازار میں جزوی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔
صدر کی موبائل مارکیٹس اور الیکٹرانکس کی بیشتر دکانیں بند رہیں، جبکہ ایم اے جناح روڈ پر لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ، کیمیکل مارکیٹ، ٹمبر مارکیٹ اور اسٹیل مارکیٹ سمیت متعدد تجارتی مراکز میں بھی کاروبار معطل رہا۔
گلبہار سینٹری مارکیٹ، پاک کالونی، قیوم آباد کی ماربل مارکیٹ، فرنیچر مارکیٹس، زیب النساء اسٹریٹ اور زینب مارکیٹ بھی بند رہیں۔
اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد اور گلشن اقبال میں جزوی ہڑتال کی اطلاعات ہیں۔ بوہری بازار اور صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف بھی کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔ اورنگی ٹاؤن نمبر ایک قذافی چوک پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور بعض دکانداروں کے درمیان تلخ کلامی اور تصادم کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
شہر میں ابتدائی طور پر بند کیے گئے پیٹرول پمپس میں سے 10 سے 15 فیصد دوبارہ کھل گئے، جبکہ نجی اور کمرشل ٹریفک معمول سے کم رہی۔
کراچی بار کی ہڑتال کی حمایت
کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کراچی بار کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک مہنگائی کے خلاف پرامن ریلی نکالی جائے گی۔ بار کی جانب سے کہا گیا کہ ہڑتال اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث وکلا اور سائلین کو سٹی کورٹ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، اس لیے عدالت سے عدم حاضری پر سخت کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے ریگل چوک صدر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی سیکڑوں مارکیٹیں اور بازار ہڑتال میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف تاجروں کی ہڑتال قابلِ تحسین ہے۔
منعم ظفر نے پیٹرول پر فی لیٹر 130 روپے لیوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لیوی کے نام پر اضافی ٹیکس قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق کاروباری مراکز میں طویل لوڈشیڈنگ اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عوام اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کی صورتحال
جماعت اسلامی کی اپیل پر اسلام آباد کے مختلف کاروباری و تجارتی مراکز میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ اور جی نائن سمیت متعدد علاقوں میں کئی دکانیں بند رہیں۔
راولپنڈی شہر اور کینٹ کے بیشتر تجارتی مراکز میں معمول کے مطابق کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں، تاہم بعض علاقوں میں چند دکانیں بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تنظیم تاجران پاکستان نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔
پنجاب میں بھی احتجاج
لاہور میں کوئینز روڈ، عابد مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور برانڈرتھ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔
مال روڈ پر ہڑتال کے معاملے پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور بعض تاجروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی، جبکہ دونوں جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔ کشیدگی کے باعث مال روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
جماعت اسلامی کی جانب سے لاہور میں موٹر سائیکل ریلی بھی نکالی گئی، جو چیئرنگ کراس سے شروع ہوکر ریلوے اسٹیشن، برانڈرتھ روڈ، مکلوڈ روڈ اور ہال روڈ سے ہوتی ہوئی واپس چیئرنگ کراس پہنچی۔
جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق ہال روڈ پر پولیس نے ریلی روکنے کی کوشش کی اور 7 کارکنان کو حراست میں لیا، جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔
جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر محمد جاوید قصوری نے کارکنان پر مبینہ پولیس تشدد اور دکانیں کھلوانے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے حکومت سے احتجاج کے معاملے میں طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیبر پختونخوا میں جزوی ہڑتال
خیبر پختونخوا میں بھی پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال جاری رہی۔
پشاور کے اشرف روڈ پر جماعت اسلامی نے احتجاج کیا جس میں مقامی تاجر بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کے خلاف نعرے بازی کی۔
پشاور کے قصہ خوانی بازار، صدر اور یونیورسٹی روڈ سمیت بیشتر علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں، تاہم جماعت اسلامی کے کارکنان نے مختلف علاقوں میں تاجروں سے ہڑتال میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبد الواسع نے ہڑتال میں تاجروں کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا بار کونسل کی اپیل پر وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا۔ پشاور ہائیکورٹ سمیت صوبے کے مختلف عدالتوں میں وکلا کی جانب سے پیش نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ضلع دیر کے چھوٹے بڑے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے، جبکہ ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات
جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات آج منصورہ میں ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے۔ کمیٹی میں ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہوں گے، جبکہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی وفد کے ہمراہ ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد مذاکرات کے دوران عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کے لیے حکومتی اقدامات اور تجاویز پر بریفنگ دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریلیف پیکج پیش کیے جانے کی صورت میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی حکومتی وفد سے ملاقات کرسکتے ہیں۔
جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلا رہی ہے اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
