لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی کے اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کو فی الحال روکنے کے فیصلے نے یہ توقع پیدا کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع دوبارہ سفارتی مذاکرات کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
تازہ کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5.8 فیصد کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 5.5 فیصد سستا ہو کر 84.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھیں، تاہم امریکی حملوں میں عارضی وقفے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات میں کمی محسوس کی، جس کے نتیجے میں عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت ہوتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام آنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آئندہ پیش رفت پر عالمی منڈی کی گہری نظر برقرار رہے گی۔