واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحے اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ اور ضرورت سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے۔ ان کے بقول، امریکی دفاعی صلاحیت کے بارے میں پھیلائی جانے والی تشویش حقیقت پر مبنی نہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض امریکی فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ پیٹریاٹ اور دیگر دفاعی نظاموں کے لیے دستیاب انٹرسیپٹر میزائل محدود ہو سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں فوجی منصوبہ بندی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ موجودہ وسائل کے ساتھ امریکی افواج اپنی دفاعی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی ایران کی میزائل لانچنگ صلاحیت کو ابتدائی مرحلے میں ہی نشانہ بنانے پر مرکوز ہے تاکہ ممکنہ بڑے پیمانے کے میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔ تاہم مزید کسی بھی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی ذخائر، فضائی دفاعی نظام اور آئندہ عسکری حکمت عملی پر جاری بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران سے متعلق مختلف فوجی اور سفارتی آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔
