صنعا: یمن میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا پر قبضے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد باب المندب کے قریب صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یمنی حکومت کے تین ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے موخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ باب المندب کے قریب واقع اس شہر پر گرفت حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم تزویراتی فائدہ فراہم کرسکتی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کی خبر رساں ایجنسی صبا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے یمن کے صوبوں تعز، حدیدہ، الجوف اور مارب میں چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 40 فضائی حملے کیے۔ حوثیوں کے مطابق یہ کارروائیاں سعودی عرب کے خلاف ان کے حملوں کے بعد کی گئیں۔
رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی موخا، ذباب اور باب المندب سے ملحقہ ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حوثی گروپ پہلے ہی یمن کے گنجان آباد شمالی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے۔
باب المندب کی اہمیت
باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو یمن کو افریقہ کے ساحلی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔ خلیجی خطے سے یورپ جانے والے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حوثی اس اہم گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں دیگر اہم بحری راستوں کی صورتحال بھی عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
موخا سے متعلق تازہ پیش رفت کے بعد یمن میں جاری کشیدگی کے دوبارہ وسیع پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہونے اور بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
