حکومت اور کاروباری برادری میں معاشی اصلاحات پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق
اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، رائٹ سائزنگ اور ٹیکس پالیسی سمیت اہم معاشی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مسلسل اور تعمیری رابطہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کے اعلیٰ سطحی وفد نے فنانس ڈویژن میں خرم شہزاد سے ملاقات کی۔ اجلاس میں نجکاری پروگرام، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور معیشت میں حکومت کے کردار کو محدود کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، بینکوں اور ایئرپورٹس کی مجوزہ نجکاری سمیت بڑے سرکاری اداروں کو ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ میں لانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو بھی ممکنہ اداروں میں شامل کیا گیا۔
پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کے رائٹ سائزنگ پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے مؤثر اور محدود سرکاری ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا اور اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز حکومت کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں ٹیکس نظام کو مزید شفاف، قابلِ پیش گوئی اور کاروبار دوست بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکس بیس میں توسیع اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کو ترجیح دی جائے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی کو فروغ مل سکے۔
خرم شہزاد نے کاروباری برادری کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
