پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان اگلے اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات ستمبر میں متوقع ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔
حکومت نے مذاکرات کی تیاری شروع کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو آئی ایم ایف کی شرائط اور اسٹرکچرل بینچ مارکس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے اور اقتصادی جائزے کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم ملنے کا امکان ہے۔ اس میں 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پروگرام کے تحت 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔
مذاکرات کے دوران نئے بجٹ پر عملدرآمد، بجلی اور گیس کے شعبوں میں گردشی قرضے پر قابو پانے، نجکاری پروگرام، زرمبادلہ کے ذخائر، پالیسی ریٹ اور مہنگائی سمیت مختلف معاشی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام اس وقت ٹریک پر ہے اور بیشتر مقررہ اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی شرائط پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
حکومتی معاشی ٹیم کو امید ہے کہ ستمبر میں ہونے والا اقتصادی جائزہ کامیابی سے مکمل ہوگا، جس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط جاری کردی جائے گی۔
