راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں خاتون کے بہیمانہ قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس کے مطابق حنا نامی خاتون کی لاش گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شادی فیصل اصغر سے تقریباً نو ماہ قبل ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق حنا کی لاش باتھ روم سے ملی، اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ منہ پر کپڑا موجود تھا۔ اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر وہ گھر پہنچے جہاں حنا کی لاش باتھ روم میں موجود تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شوہر، سسر اور ملازم کی جانب سے اسے پہلے بھی مبینہ طور پر اذیت دی جاتی رہی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ رپورٹ کا انتظار ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب متاثرہ خاندان نے مقتولہ کے سسر اصغر علی کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ خاندان نے پنجاب پولیس سے انصاف اور قانون کے مطابق کارروائی کی اپیل کی ہے۔
