عوام کہتے ہیں کہ فضل الرحمان نے سی پیک منصوبے سے بنوں اور وزیرستان کو باہر رکھا۔ ٹانک اور ڈی آئی خان کو اس لیے شامل کیا کہ وہاں سے الیکشن لڑتے ہیں۔اس نے اپنے گاؤں میں سی پیک موٹروے کا انٹرچینج بنوایا تاکہ ذاتی فائدہ ہو۔ موٹروے کے ارد گرد جتنی زمین تھی سب خرید لی اور دوستوں کے نام پر بھی لے لی۔ اس کا کام صرف جائیداد بنانا ہے، عوام کا کوئی کام نہیں۔1972 سے لوگ اسے جانتے ہیں۔ جہاں مفاد نظر آئے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سب ٹھیک ہو وہاں رات گزارتا ہے، ورنہ چپ۔ صرف دولت جمع کرتا ہے، دین اور عوام دونوں سے بے تعلق ہے۔ موقع ملا تو خزانہ لوٹتا ہے اور دین بیچتا ہے۔آج بنوں میں آپریشن جاری ہے، پشتون علاقوں میں بے گناہ لوگ مر رہے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں حالات بدترین ہیں مگر وہ آرام سے بیٹھا ہے۔ ساری عمر بنوں، لکی مروت اور ٹانک سے پاس ہوتا رہا، لوگوں نے عزت دی اور ممبر بنایا، اب ان حالات پر ایک لفظ نہیں بولتا ۔شاطر آدمی ہے، شطرنج کے کئی پتے رکھتا ہے۔ جہاں ویلیو بنے وہیں بولتا ہے، اشارہ ملے تو چابی کے کھلونے کی طرح چل پڑتا ہے
