اسلام آباد: پاکستان کے صنعتی شعبے میں بہتری کا رجحان برقرار ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (LSM) میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں تیزی سے ملکی پیداوار، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی معاونت سے صنعتی شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے کے نتیجے میں مختلف صنعتوں کی کارکردگی میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے مئی کے عرصے کے دوران بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کا کوانٹم انڈیکس بڑھ کر 121.65 تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 115.02 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی مدت کے دوران ایل ایس ایم شعبے میں سالانہ بنیاد پر 5.77 فیصد اضافہ بھی سامنے آیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق مختلف صنعتی شعبوں کی بہتر کارکردگی کے باعث ملک کی پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مقامی صنعت کو مزید استحکام حاصل ہونے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی پالیسی معاونت اور سرمایہ کاری کے لیے سہولت کاری نے صنعتی شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔ اس کے نتیجے میں برآمدات بڑھانے، پیداواری استعداد میں اضافے اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد مل رہی ہے۔
اقتصادی حلقوں کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مثبت پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صنعتی ترقی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی پیداوار میں اضافے سے ملک کی طویل مدتی معاشی نمو کو بھی تقویت ملنے کی امید ہے۔
