وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کو کوہاٹ ڈویژن ڈویلپمنٹ پروگرام (KDDP) کے تحت پاورٹی ایلیویشن کمپوننٹ پروگرام (Poverty Alleviation Component – PAC) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر سماجی بہبود محمد صالح، پروگرام ڈائریکٹر کوہاٹ ڈویژن ڈویلپمنٹ پروگرام حشمت علی، پاورٹی ریڈکشن کوآرڈینیٹر فرید اللہ شاہ اور ڈسٹرکٹ آفیسر سماجی بہبود کرک ڈاکٹر محمد حسین سمیت دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ PAC کا مقصد کوہاٹ ڈویژن کے انتہائی غریب اور مستحق گھرانوں کی درست نشاندہی کرکے انہیں پیداواری اثاثے، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور خودانحصاری و معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنا ہے۔ پروگرام میں کرک، ہنگو اور کوہاٹ کے اضلاع شامل ہیں۔مزیدبتایا گیا کہ PAC کے تحت مجموعی طور پر 5 ہزار مستحق گھرانوں کو پیداواری اثاثے فراہم کیے جائیں گے، جن میں کرک کے 2,500، ہنگو کے 1,500 اور کوہاٹ کے 1,000 گھرانے شامل ہیں۔بریفنگ کے مطابق مستحقین کے انتخاب کے لیے آن لائن درخواستوں، ضرورت کے تخمینے، بی آئی ایس پی پی ایم ٹی اسکور کی تصدیق اور میرٹ پر مبنی خودکار اسکورنگ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 87,443 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں کرک سے 75,633، کوہاٹ سے 6,963 اور ہنگو سے 4,847 درخواستیں شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں نے مختلف روزگار اور کاروباری اثاثوں کو ترجیح دی، جن میں زرعی آلات، ٹیلرنگ مشینیں، بیوٹی پارلر سیٹ اپ، کریانہ اسٹورز، فاسٹ فوڈ کارٹس، مکینیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانکس اور پلمبنگ ٹولز سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ PAC میں کارپٹ میکنگ اسکل ٹریننگ سینٹرز کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مستحق افراد کو ہنر سکھا کر باعزت اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستحقین کے انتخاب میں کیٹیگری وائز اور علاقہ وار ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ حقیقی مستحق افراد اور خاندانوں تک سہولیات پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو پائیدار ذریعہ معاش فراہم کرنا اور انہیں خودانحصاری کی جانب گامزن کرنا ہونا چاہیے۔بریفنگ میں PAC کے تحت ضرورت کا جائزہ، مستحقین کا انتخاب، پیداواری اثاثوں کی خریداری و فراہمی اور بعد ازاں فیلڈ وزٹس کے ذریعے مانیٹرنگ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اثاثوں کی فراہمی کے بعد مستحقین کی آمدن، روزگار اور معاشی صورتحال میں بہتری کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ملک لیاقت علی خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ PAC پر عملدرآمد کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور حقیقی مستحقین کی نشاندہی کو یقینی بنایا جائے اور فراہم کردہ اثاثوں کے مؤثر استعمال کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے تاکہ پروگرام کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں
