مظفرآباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ذاتی طور پر کوئی شکایت نہیں، تاہم ان کے بقول موجودہ سیاسی تنازع ن لیگ کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔
آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض عناصر اپنی ہی جماعت کی سیاسی حکمت عملی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی فضا میں ایسے واقعات قابل قبول نہیں جن میں ووٹوں پر اعتراضات، کارکنوں پر حملے یا سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا جائے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے گرد موجود بعض افراد کے طرزِ عمل سے سیاسی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے مستقبل سے متعلق سوالات خود حکومتی حلقوں کے اندر سے اٹھ رہے ہیں اور یہی صورتحال موجودہ سیاسی منظرنامے کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک انٹرنیٹ بند رہنے اور عوامی مشکلات میں اضافے نے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں کے معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے پہلے شہریوں کے بنیادی حقوق اور اعتماد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام کو ریاستی اداروں پر اعتماد نہ ہو تو جمہوری نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہونے چاہییں تھے۔ انہوں نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کا مطالبہ کیا۔
اختتام پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت انتخابی شفافیت، ووٹ کے احترام اور جمہوری اصولوں کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی
