اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی کو ہٹانے یا سیاسی طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق وقت نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے کسی بھی شخص کو سیاست سے باہر نہیں کیا جا سکتا، اور ان کی جماعت بھی ایسی سیاست کے حق میں نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ملک اور جمہوریت کی بہتری سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی معاملات کو آگے لے کر جانا ہے تو اس کا آغاز عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عمل ہوگا تو سیاسی معاملات میں پیش رفت کی گنجائش پیدا ہوگی، جبکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے ملک میں موجود سیاسی تناؤ اور کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق طبی رپورٹس کو ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں، کیونکہ صحت کا معاملہ اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق مسائل کے حل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی مناسب طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں اور ضرورت کے مطابق اسپتال منتقل کرنا ان کا حق ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت پر زور دیا کہ سخت سیاسی اقدامات کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور ایسی بیان بازی سے اجتناب ضروری ہے جس سے ملک میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے۔
بیرسٹر گوہر نے سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے کہا کہ فوج، پولیس اور رینجرز کی حفاظت ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ملک کے سیکیورٹی اداروں کو کسی بھی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے اور دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو، وہ قابل مذمت ہے۔
