پاکستان خطے میں مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا، اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان مضبوط تعلقات اقتصادی تعاون، انسدادِ دہشت گردی میں اشتراک اور علاقائی استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کریں گے، وزیرِ اعظم
برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ ۔ ( نیوزڈیسک):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی قیادت کی جانب سے جاری بحران کو تحمل، وقار اور دانشمندی سے سنبھالنے کو سراہتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی کامیابی کے لیے امید کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان اور امریکہ کے مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اتوار کو یہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، قطر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔وزیرِ اعظم نے ایرانی قیادت کی جانب سے جاری بحران کو تحمل اور وقار کے ساتھ سنبھالنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے مخلصانہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔وزیر اعظم نےکہا کہ ایرانی قیادت نے پورے بحران کو وقار کے ساتھ سنبھالا ہے اور کشیدگی کم کرنے کی حقیقی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایرانی قیادت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ سفارتی سرگرمی استحکام کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے تنازعات کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔پاکستان کی وسیع تر بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تعریف کی اور انہیں ’’امن پسند شخصیت‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت نے حالیہ پاکستان-بھارت کشیدگی کے دوران تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جب دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک ایک خطرناک تصادم کے قریب پہنچ چکے تھے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی متحرک اور جرات مندانہ قیادت نے ایک بڑے تنازعہ کو روکنے میں مدد دی۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کی حمایت میں حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ قرار دیا۔انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے صدر ٹرمپ کی حمایت کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان مضبوط تعلقات اقتصادی تعاون، انسدادِ دہشت گردی میں اشتراک اور علاقائی استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔