پاک ایران تجارت جاری، یکطرفہ پابندیوں کی پابندی کے پابند نہیں، دفتر خارجہ
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری ہے اور پاکستان تہران کے خلاف عائد یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت جاری ہیں اور پاکستان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد ہوں تو صورتحال مختلف ہوگی۔
طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی قیادت نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران سے متعلق ان خبروں کی تردید کی کہ یہ دورہ امریکی صدر کے ایلچی کی حیثیت سے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی کوششوں کا حصہ تھا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی اداروں کے عہدیداروں سے رابطے کیے ہیں تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ایس سی او اجلاس اور پاکستان کی آئندہ صدارت
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ 31 اگست کو بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس منعقد ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ان کے مطابق وزیراعظم اجلاس کے موقع پر مختلف رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جبکہ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
افغانستان سے متعلق بھی مؤقف واضح
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کی تجویز کو نوٹ کرچکا ہے، تاہم افغان طالبان کو زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریاستی سطح پر ایک مؤثر ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کے لیے تیار ہے اور توقع رکھتا ہے کہ افغان عبوری حکومت انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
کشمیر اور بھارت سے متعلق ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ حقائق کی بنیاد پر بنتی ہے، کسی بیانیے یا پروپیگنڈے سے نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر پیش آنے والی توڑ پھوڑ پر بھارت سے ویانا کنونشن کے تحت احتجاج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف کارروائی تمام متعلقہ مشنز کے لیے یکساں طور پر کی گئی اور اسے نئی دہلی میں ہونے والی کارروائی سے جوڑنا درست نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت میں امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے پر بھی اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے اور اس کی بندش سے متعدد ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان صورتحال میں بہتری اور راستہ کھولنے کی کوششوں کے حوالے سے پرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران بھی اسی وسیع سفارتی کوشش کا حصہ تھا، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے امکانات پیدا کرنا تھا۔
شام اور اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا مؤقف
طاہر اندرابی نے بتایا کہ شام کے وزیر خارجہ نے طویل عرصے بعد پاکستان کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں نئی بستیاں قائم کرنے کا حق نہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اسرائیلی آبادکاری کو غیرقانونی قرار دے چکے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
