ڈیرہ اسماعیل خان (ڈسٹرکٹ نیوز) فائزنہ گرین بائٹس (ایس ایم سی پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر اہتمام دیوان خاص مارکی، موسمیات روڈ پر خواتین کا فوڈ اینڈ بیوریج مقابلہ منعقد ہوا، جسے منتظمین نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقابلہ قرار دیا۔ مقابلے میں 31 ٹیموں کی صورت میں 310 خواتین نے شرکت کی، ہر ٹیم میں 10 ارکان شامل تھے، جبکہ تقریباً 60 رضاکار ٹیم لیڈرز نے ٹیموں کی رہنمائی اور انتظامات میں معاونت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈی ایس پی سٹی سرکل حافظ محمد عدنان تھے، جبکہ گومل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر صدف جویریہ، خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ڈیرہ سے محترمہ عمارہ اور ڈی ایس پی عالمگیر خان نے بطور مہمانانِ گرامی شرکت کی۔ ججز کی قیادت اور نگرانی پروفیسر ڈاکٹر صدف جویریہ نے کی۔
ججز پینل میں پرنسپل ووکیشنل ٹریننگ کالج محترمہ بیلا کنڈی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ ویمن ڈویلپمنٹ محترمہ سائرہ بخاری، محترمہ سویرا نعیم، فوڈ اتھارٹی ڈیرہ کی محترمہ عمارہ، استاد محترمہ گلِ رعنا اور طالبہ عروہ نور شامل تھیں۔ مقابلے میں پیش کی جانے والی تمام اشیاء کو ذائقہ، صفائی و محفوظ تیاری، لاگت، یکسانیت اور پیشکش کے پانچ معیارات پر پرکھا گیا۔
نتائج کے مطابق پہلی 10 پوزیشنز پر مجموعی طور پر 20 خواتین کامیاب قرار پائیں، ہر پوزیشن پر دو دو خواتین کو کامیاب قرار دیا گیا۔ پہلی تین پوزیشنز پر 6 جبکہ باقی سات پوزیشنز پر 14 خواتین کامیاب رہیں۔ فائزنہ گرین بائٹس کے چیف ایگزیکٹو محمد اعجاز اعوان نے اپنے والد محترم محمد ریاض، ڈی ایس پی حافظ محمد عدنان، ڈی ایس پی عالمگیر خان اور پروفیسر ڈاکٹر صدف جویریہ کے ہمراہ کامیاب خواتین اور تمام شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔
اس موقع پر چیف ایگزیکٹو محمد اعجاز اعوان نے اعلان کیا کہ فروری 2027 میں فائزنہ گرین بائٹس کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس کے تحت 8 ہزار خواتین ہوم پروڈیوسرز بن کر فائزنہ ایس ایم ایز نیٹ ورک کا حصہ بنیں گی، جبکہ اس کے نتیجے میں خواتین کے لیے 24 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کمپنی کے پروگرام کے مطابق اس سے قبل نومبر اور دسمبر میں مزید دو مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔
کمپنی کا ماڈل ’’ہر گھر ایک فیکٹری ہے‘‘ کے اصول پر قائم ہے، جس کے تحت ایک خاتون، ایک آئٹم اور ایک مستند گھریلو باورچی خانہ تصور کیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق اس ماڈل میں نہ کوئی فیس اور نہ کوئی قرض ہوگا، جبکہ آمدن خاتون کے اپنے نام کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
محمد اعجاز اعوان نے کہا کہ یہ کاروباری ماڈل کمیونٹیز کو صدمے اور مایوسی کی کیفیت سے نکال کر ان کے لیے امید کی روشنی بنے گا۔ فائزنہ گرین بائٹس کا ماڈل معاشرے میں نئے رجحانات قائم کرے گا اور کمیونٹیز کے لیے نئے رول ماڈل پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوانوں کی شمولیت، خواتین کی خودمختاری، انٹرپرینیورشپ اور چھوٹے و درمیانے کاروبار کے فروغ کا مضبوط ماڈل ہے اور پورے خیبرپختونخوا کے لیے رول ماڈل پریکٹس بن سکتا ہے۔
مقابلے میں شریک خواتین نہایت پرجوش دکھائی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ماڈل بے سہاروں کے لیے امید اور بے آوازوں کی آواز ہے۔
منتظمین کے مطابق فائزنہ گرین بائٹس کا ماڈل اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کے مینڈیٹ سے مطابقت رکھتا ہے، جن میں یو این ویمن، یو این ڈی پی، آئی ایل او، ایف اے او، ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیڈو، ایفاد، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر، یو این ایف پی اے اور یونیسف شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ ماڈل اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے سات اہداف پر براہ راست کام کرتا ہے، جن میں غربت کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، صنفی مساوات، باعزت روزگار و معاشی ترقی، عدم مساوات میں کمی، امن و انصاف اور مضبوط ادارے، جبکہ شراکت داری کا فروغ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر پائیدار ترقی کے اہداف پر بھی اس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔
محمد اعجاز اعوان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف، کور کمانڈر الیون کور پشاور کے دفتر، جی او سی 40 ڈویژن ڈیرہ اسماعیل خان کے دفتر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کے دفتر کا اخلاقی حمایت اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مہمانِ خصوصی ڈی ایس پی حافظ محمد عدنان، ڈی ایس پی عالمگیر خان، تمام ججز، رضاکار ٹیم لیڈرز اور مقابلے میں شریک خواتین کا بھی شکریہ ادا کیا۔
