کراچی: وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی کی بندرگاہوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ سے متعلق ایک نئے مراعاتی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کو خطے کا اہم ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق بحری شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کی انتظامیہ کی کوششوں سے بندرگاہی سرگرمیوں اور تجارتی صلاحیت میں بہتری آ رہی ہے۔
وزیرِ بحری امور کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ٹرانس شپمنٹ کارگو کی ہینڈلنگ لاگت میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی بندرگاہیں علاقائی سطح پر زیادہ مسابقتی بن سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کو پورٹ ہینڈلنگ چارجز میں 80 فیصد تک رعایت دی جائے گی۔ کراچی پورٹ پر وہارفیج فیس میں 20 سے 80 فیصد تک کمی، 14 روز مفت اسٹوریج اور ٹی پی ایکس ایریا میں 30 روز تک بلا معاوضہ اسٹوریج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح پورٹ قاسم پر وہارفیج مکمل طور پر معاف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹرمینلز پر ابتدائی طور پر 7 روز مفت اسٹوریج دی جائے گی، جسے ضرورت پڑنے پر 21 روز تک بڑھایا جا سکے گا۔
مزید برآں کنٹینر ٹرمینلز نے بھی ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز میں 25 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین کراچی پورٹ، ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد کا کہنا تھا کہ زیادہ ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کو مزید مراعات دی جائیں گی، جس سے جہازوں کے قیام کا دورانیہ کم ہوگا اور بندرگاہی آپریشنز کی رفتار میں بہتری آئے گی۔
وزیرِ بحری امور نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹرانس شپمنٹ سے متعلق تمام پرانے ایس آر اوز اور نوٹیفکیشنز ختم کر دیے گئے ہیں تاکہ نئے نظام پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
