یونیورسٹی آف لورالائی میں خون کے عطیے اور تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی سیشن، رضاکارانہ خون کا عطیہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار
لورالائی (میاں محمد عامر بشیر آرائیں): یونیورسٹی آف لورالائی اور فلاحی تنظیم بلڈ ہیروز کے اشتراک سے خون کے عطیے اور تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور نوجوانوں میں رضاکارانہ خون کے عطیے کی اہمیت اجاگر کرنا اور تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے بارے میں شعور پیدا کرنا تھا۔
آگاہی سیشن میں یونیورسٹی آف لورالائی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاسی، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) اسلم زیب، ڈاکٹر مجیب دومڑ اور ان کی طبی ٹیم سمیت یونیورسٹی کے دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ خون کا عطیہ ایک عظیم انسانی خدمت اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔ بہت سے مریضوں کی زندگیاں بروقت خون کی فراہمی سے وابستہ ہوتی ہیں، بالخصوص تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو باقاعدگی سے خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے میں رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے والے افراد ان بچوں اور دیگر مستحق مریضوں کے لیے امید کا ذریعہ بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خون کے عطیے سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں اور غیر ضروری خدشات کو دور کرنا ضروری ہے۔ نوجوان نسل کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت خون عطیہ کرنے کی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق خون کا عطیہ ضرورت مند مریضوں کی مدد کے ساتھ معاشرے میں تعاون، احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
تھیلیسیمیا کے حوالے سے ڈاکٹر مجیب دومڑ اور ان کی ٹیم نے مرض کی نوعیت، اسباب، احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، مستند طبی مشورے اور شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کے بارے میں شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاسی نے آگاہی سرگرمیوں کو تعلیمی اداروں کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں تعلیم اور تحقیق کے علاوہ معاشرتی اصلاح، عوامی شعور اور انسانی خدمت کے فروغ میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ میں سماجی ذمہ داری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈائریکٹر ORIC اسلم زیب نے بھی اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ جامعات اور فلاحی تنظیموں کے اشتراک سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے مؤثر سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بلڈ ہیروز کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھنے پر زور دیا۔
سیشن کے اختتام پر منتظمین نے یونیورسٹی انتظامیہ، مہمانوں، طبی ٹیم اور بلڈ ہیروز کی یونیورسٹی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خون کے عطیے اور تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت مند مریضوں کو بروقت خون کی فراہمی میں مدد مل سکے۔
