دفتر خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی، افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کے امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، جبکہ پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات اور حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یمن سے ہونے والے حملے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ پاکستان علاقائی تنازعات میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی وزیر داخلہ نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ بھی کیا۔
ترجمان کے مطابق 18 جولائی کو پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی، جبکہ منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ کی مصر اور عمان کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں علاقائی سلامتی، خودمختاری اور باہمی تعاون سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ کرغزستان کے صدر سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ منیلا میں ہونے والے 34ویں آسیان ریجنل فورم میں بھی پاکستان نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، بنگلادیش کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سمیت دیگر رہنماؤں سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر بھی اتفاق ہوا، جبکہ پاکستان نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ پاکستان کی مجموعی پیش رفت کا مکمل احاطہ نہیں کرتی، تاہم یورپی یونین کے ساتھ مثبت اور تعمیری روابط جاری رکھے جائیں گے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسے حقائق کے منافی اور بے بنیاد سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، اور کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
