نئی دہلی: بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد ملک کے تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیوں پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے، جبکہ بعض سیاسی اور تجزیاتی حلقوں نے اس پیش رفت کو آر ایس ایس سے منسلک تعلیمی ایجنڈے کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق سابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو مودی حکومت کے تعلیمی منصوبوں میں اہم کردار حاصل تھا اور ان پر آر ایس ایس کے نظریاتی تعلیمی پروگرام کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد کی جا رہی تھی۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی رخصتی سے اس منصوبے کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کے دور میں تعلیمی پالیسیوں پر ہندوتوا نظریے کے اثرات بڑھنے کے حوالے سے مسلسل بحث ہوتی رہی، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اصلاحات کے ذریعے نصاب اور تعلیمی اداروں میں نظریاتی تبدیلیاں متعارف کرانے کی کوشش کی گئی۔
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی بھی متعدد مواقع پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس ملک کے تعلیمی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کو اپنے نظریاتی مقاصد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی ماہرِ تعلیم مردولا مکھرجی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں میں تقرریوں اور پالیسی سازی کے ذریعے نظریاتی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں کی گئیں، جس کے باعث تعلیمی نظام پر مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ تعلیم کے استعفے نے ایک بار پھر بھارت کی تعلیمی پالیسی، اس کے انتظامی ڈھانچے اور حکومتی ترجیحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اس معاملے کے سیاسی اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
