سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے شفا اسپتال جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ثابت ہوئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں عمران خان کو ویل چیئر پر اسپتال سے باہر آتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ راستے میں پھولوں کی پتیاں اور طبی عملے کی موجودگی بھی نظر آ رہی تھی۔ بعض پوسٹس میں ان تصاویر کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لاہور اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال سے منسوب کیا گیا۔
تاہم فیکٹ چیک کے دوران ان دعوؤں میں کئی تضادات سامنے آئے۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کی جانب سے لاہور میں کسی اسپتال کی موجودگی نہیں، جبکہ اس کے متعلقہ مراکز اسلام آباد اور فیصل آباد میں ہیں۔ مزید برآں، وائرل تصاویر میں نظر آنے والی عمارتیں بھی متعلقہ اسپتالوں کی اصل عمارتوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
تحقیق کے دوران تصاویر میں مصنوعی ذہانت سے متعلق واٹرمارکس بھی سامنے آئے، جبکہ اے آئی ڈیٹیکشن ٹول نے بھی ان تصاویر کے مصنوعی طور پر تیار کیے جانے کی نشاندہی کی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور بعد ازاں انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا۔
یوں عمران خان کے شفا اسپتال جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر قابلِ اعتماد نہیں، بلکہ دستیاب شواہد کے مطابق انہیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔
