ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے، تاہم حتمی منظوری کا مرحلہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نئی پالیسی کی منظوری سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ سے مشاورت کرے گی۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری جائزہ مذاکرات کے دوران آٹو پالیسی کے مسودے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم رواں ماہ کے اختتام پر پاکستان کا دورہ کرسکتی ہے، جس کے بعد پالیسی کی حتمی منظوری کے عمل میں پیش رفت کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مشاورت کے باعث نئی آٹو پالیسی کے اجرا کا عمل مزید مؤخر ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ نئی آٹو پالیسی میں آئندہ پانچ برس کے دوران ملک کے آٹو موبائل سیکٹر کی ترقی، مقامی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے حکمت عملی شامل کی جائے گی۔
