آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کا دعویٰ، ایران کی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں بعض جہازوں میں آگ لگنے اور دیگر کے ناکارہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق نشانہ بننے والے سات جہازوں میں سے چار تیل کی ترسیل میں مصروف تھے، جنہیں رات کے وقت حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ باقی تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوئے۔ متاثرہ جہازوں کی شناخت اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں معاونت جاری رکھتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان نے بھی بارودی سرنگوں سے متعلق ایرانی دعوؤں کو غلط قرار دیا اور کہا کہ امریکی افواج نے بین الاقوامی بحری راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور تقریباً 95 فیصد جہاز اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ امریکا نے ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد گزرتی تھی۔ اس راستے میں کسی بڑی رکاوٹ کے خدشات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خدشات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی فوجی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک طویل جنگ کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکا میں جنگی اخراجات، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سیاسی دباؤ کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈی کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
