الیکٹرک گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکسوں کے حوالے سے متبادل تجاویز سامنے آئی ہیں، جن کے تحت پچھتر ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر دس فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع اور دستاویزات کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں پر اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ متبادل تجویز میں مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹی کے ذریعے کم قیمت گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد تک محدود رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے معاملے پر آئی ایم ایف سے مشاورت کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
اس کے علاوہ مقامی اور درآمدی ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق آئندہ پانچ سال میں گاڑیوں پر اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم سینتیس ارب سے بڑھ کر ایک سو اٹھاسی ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بسوں اور ٹرکوں سے آمدن پینتالیس ارب سے بڑھ کر دو سو بتیس ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے۔
مجوزہ شرحوں میں مقامی ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر دو فیصد اور دو ہزار ایک سو سی سی یا اس سے بڑی گاڑیوں پر دس فیصد لیوی شامل ہے۔
