تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے عائد نئی اقتصادی پابندیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھا، جس میں امریکی اقتصادی دباؤ اور ایران کے ساتھ تجارت و تعاون کرنے والے ممالک کو روکنے کی کوششوں پر اعتراض کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانا اور دوسرے ممالک کو تہران کے ساتھ اقتصادی روابط سے روکنا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی اقدامات کو یکطرفہ، غیر قانونی اور طاقت کے استعمال پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو اپنی معاشی یا سیاسی طاقت کے ذریعے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ امریکی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور ریاستوں کے درمیان مساوی حقوق کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
خط میں امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا۔ عراقچی نے مطالبہ کیا کہ ان اقدامات سے پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ رپورٹ تیار کی جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تلافی یا معاوضے کے امکانات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
