اسلام آباد، 29 اگست: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’التوا میں رکھنے‘‘ کا اعلان معاہدے کی قانونی حیثیت ختم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کے تحت دونوں ممالک کے حقوق و ذمہ داریوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
نیوز ویک میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (IWT) بدستور نافذ العمل ہے اور اسے ختم، معطل یا یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی گنجائش معاہدے میں موجود نہیں۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے برصغیر کے اہم ترین دریائی نظاموں میں سے ایک کے انتظام کے لیے ایک واضح اور اصول پر مبنی قانونی فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی پائیداری سیاسی حالات کے بجائے اس کے طے شدہ اصولوں اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار سے وابستہ ہے۔
معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا
پاکستانی سفیر نے امریکی سفیرِ بھارت ونے کواترا کے ایک مضمون کے جواب میں کہا کہ بھارت اپریل 2025 میں معاہدے کو ’’التوا میں رکھنے‘‘ کے اعلان کے بعد اپنے مؤقف کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے، تاہم اس اقدام کی بنیاد نہ سندھ طاس معاہدے میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں اس کی کوئی واضح گنجائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو کئی برس کی بات چیت کے بعد عالمی بینک کی معاونت سے طے پایا تھا۔ یہ کسی ملک کی طرف سے دوسرے ملک کو دی گئی رعایت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے، جس میں دونوں فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کی گئی ہیں۔
مشرقی اور مغربی دریاؤں کی تقسیم
رضوان سعید شیخ کے مطابق معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کے استعمال کا حق دیا گیا، جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی سے متعلق پاکستان کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں پر اپنے تاریخی انحصار کو ترک کیا اور اپنے آبپاشی کے نظام کو نئے انتظام کے مطابق ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر متبادل منصوبے مکمل کیے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر بھارت کے پانی کے استعمال سے متعلق مقررہ حدود دریا کے بالائی اور زیریں حصوں میں موجود قدرتی اور آبی حقائق کو مدنظر رکھ کر طے کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق یہ شرائط نچلے حصے میں واقع ملک کے آبی حقوق اور پانی کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔
پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستانی اعتراضات
رضوان سعید شیخ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان بھارت کے پن بجلی کے منصوبوں کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم ایسے منصوبوں کو معاہدے میں طے شدہ تکنیکی اور آپریشنل شرائط کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
ان کے مطابق جھیلوں، اسپل ویز، آؤٹ لیٹس، پانی کے اخراج اور دیگر تکنیکی معاملات پر پاکستان کی جانب سے وضاحت یا غیر جانب دارانہ فیصلہ طلب کرنا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کے تحت حاصل حقوق کا استعمال ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے آرٹیکل IX میں تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اختلافات کو طے شدہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔
ثالثی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ
پاکستانی سفیر نے کہا کہ ثالثی کی عدالت کے فیصلوں نے سندھ طاس معاہدے کے تسلسل، اس پر عملدرآمد اور اس کی شرائط کی پابندی کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
ان کے مطابق مئی 2026 کے ضمنی ایوارڈ سمیت مختلف فیصلے اس اصول کی تائید کرتے ہیں کہ مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے سندھ طاس معاہدے میں طے کردہ حدود اور شرائط کے مطابق ہی تعمیر اور چلائے جانے چاہییں۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ سیاسی یا سکیورٹی سے متعلق الزامات کسی بین الاقوامی معاہدے کے تحت موجود ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتے۔ ان کے بقول دہشت گردی یا دیگر دوطرفہ تنازعات کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدے کو معطل، نظرانداز یا دوبارہ تحریر کرنے کا اختیار کسی ایک فریق کو حاصل نہیں۔
معاہدہ ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کا اتفاق ضروری
پاکستانی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنے، اسے ’’التوا میں رکھنے‘‘ یا ختم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے آرٹیکل XII کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک دونوں حکومتیں باقاعدہ طور پر ایک نئے اور توثیق شدہ معاہدے کے ذریعے اسے ختم کرنے پر اتفاق نہ کریں۔
رضوان سعید شیخ نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی روح اور خطوط کے مطابق اس پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لے، معاہدے کی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور اختلافات کے حل کے لیے معاہدے میں موجود ادارہ جاتی نظام سے رجوع کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب تمام قانونی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔
پاکستانی سفیر کے مطابق پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، روزگار اور معاشی استحکام سندھ طاس کے نظام سے براہ راست منسلک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض سیاسی مفاد کا نہیں بلکہ پانی کے تحفظ اور تقریباً 25 کروڑ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود سے جڑا ہوا ہے، اس لیے جنوبی ایشیا میں سندھ طاس معاہدے کی سالمیت کا تحفظ عالمی برادری کے لیے بھی اہم ہے
