تحریر: راج کمار
اوڈکسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور فکری ارتقا کی بنیاد معیاری تعلیم ہوتی ہے، جبکہ جامعات علم، تحقیق، جدت اور قومی ترقی کے اہم مراکز سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ادارے صرف ڈگریاں دینے کے لیے قائم نہیں کیے جاتے بلکہ مستقبل کے ماہرین، سائنس دانوں، محققین اور پالیسی سازوں کی تربیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ سندھ جیسے زرعی صوبے میں، جہاں معیشت کا بڑا حصہ زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے، وہاں شہید بینظیر بھٹو ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز یونیورسٹی سکرنڈ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔اس یونیورسٹی کا قیام سندھ کے لائیو اسٹاک سیکٹر کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے، جانوروں کی بیماریوں پر تحقیق کو فروغ دینے اور ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں کی تیاری کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس ادارے سے ہزاروں طلبہ، لاکھوں مویشی پالنے والے افراد اور زرعی معیشت سے وابستہ طبقے کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے یہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی اور تحقیقی کامیابیوں کے بجائے انتظامی بحران، مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی بھرتیوں، اقربا پروری، سیاسی مداخلت اور شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے باعث توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگر کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے بارے میں اس نوعیت کی شکایات مسلسل سامنے آئیں تو یہ صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔مختلف ذرائع کے مطابق یونیورسٹی ایک طویل عرصے سے مستقل وائس چانسلر اور رجسٹرار کے بغیر اضافی چارج پر چل رہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے میں مستقل قیادت کی عدم موجودگی پالیسی سازی، مالی نگرانی، احتساب، ترقیاتی منصوبہ بندی اور انتظامی شفافیت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھنا ایک فطری امر سمجھا جاتا ہے۔بعض ذرائع کی جانب سے یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ اضافی چارج کے دوران مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں، ترقیاں، مالی بے ضابطگیاں، جعلی بلوں کی ادائیگی، خریداری کے عمل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کی کمی جیسے معاملات پیش آئے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صورتحال نہ صرف یونیورسٹی بلکہ سندھ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے بھی انتہائی سنگین ہوگی۔ تاہم صحافتی اور قانونی اصولوں کے مطابق ان الزامات کی حقیقت صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل پہچان میرٹ ہوتی ہے۔ جب میرٹ کی جگہ سفارش، سیاسی اثر و رسوخ، ذاتی تعلقات یا برادری کو ترجیح دی جائے تو اداروں کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں قابل نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، تحقیق متاثر ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔دوسری جانب طلبہ کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ہاسٹلز میں صاف پانی، بجلی، لیبارٹریوں، لائبریری، انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کے فقدان پر احتجاج کیے گئے ہیں۔ کسی بھی یونیورسٹی کی اصل شناخت اس کی عمارتیں نہیں بلکہ معیاری تعلیم، جدید تحقیق، طلبہ دوست ماحول اور شفاف انتظام ہوتا ہے۔ اگر طلبہ بنیادی سہولیات کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں تو یہ انتظامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔اسی طرح ملازمین کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ کئی ملازمین برسوں سے مستقل ہونے کے منتظر ہیں جبکہ بعض تقرریوں اور ترقیوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک مضبوط ادارے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فیصلے قانون، سروس رولز اور میرٹ کے مطابق کیے جائیں تاکہ ملازمین کا اعتماد بحال رہے۔یہاں یہ بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی فرد یا ادارے پر لگنے والے الزامات، تحقیقات مکمل ہونے تک صرف الزامات ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ انصاف اور ذمہ دار صحافت دونوں کا تقاضا ہے کہ ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مساوی حق دیا جائے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے گئے ہیں تو اس مؤقف کو بھی مکمل اہمیت دی جانی چاہیے۔وقت کا تقاضا ہے کہ سندھ کی جامعات کو سیاسی مداخلت، سفارشی کلچر اور ذاتی مفادات سے پاک کیا جائے۔ دنیا کی کامیاب جامعات خودمختاری، احتساب، شفافیت، میرٹ اور علمی آزادی کے اصولوں پر استوار ہیں۔ اگر ہمارے تعلیمی ادارے بھی انہی اصولوں پر چلیں تو نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی ساکھ مضبوط ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت، چانسلر، متعلقہ محکمے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے یونیورسٹی کے مالی، انتظامی اور بھرتیوں سے متعلق تمام معاملات کا آزاد، شفاف اور غیر جانبدار آڈٹ کرائیں۔ اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور اگر الزامات غلط ثابت ہوں تو ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے لیے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں جلد از جلد مستقل وائس چانسلر، رجسٹرار اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں کی جائیں، طلبہ کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، اساتذہ اور ملازمین کے جائز مسائل حل کیے جائیں اور ادارے کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے محفوظ بنایا جائے۔شہید بینظیر بھٹو ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز یونیورسٹی سکرنڈ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ سندھ کی زرعی معیشت، لائیو اسٹاک سیکٹر اور ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ ایک قومی اثاثہ ہے۔ اس ادارے کی ساکھ، شفافیت اور تعلیمی معیار کی بحالی حکومت، انتظامیہ، اساتذہ، ملازمین، طلبہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر آج میرٹ، احتساب اور شفافیت کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا گیا تو یہ ادارہ اپنے اصل مقصد کی جانب دوبارہ گامزن ہو سکتا ہے، بصورت دیگر نقصان صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں بلکہ سندھ کی اعلیٰ تعلیم اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہوگا۔