سانحہ پمز: اسلام آباد ہیلتھ اتھارٹی اور وزارتِ صحت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے
سانحہ پمز کے بعد اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارتِ صحت کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ آئی ایچ آر اے کے بورڈ سے مزید پانچ ارکان نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے ہیں، جس کے بعد 9 رکنی بورڈ کے 7 ارکان مستعفی ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے والے بورڈ ممبران نے اپنے استعفے وزارتِ قومی صحت کو ارسال کر دیے ہیں۔ استعفیٰ دینے والوں میں پروفیسر نعیم ملک، ڈاکٹر مطیع الرحمن، ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر عارف مقصود، کاشف ظہور اور اسما خلیل شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ اراکین نے چیئرمین کے مستعفی ہونے کے بعد اپنے عہدوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ آئی ایچ آر اے بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ نے 28 اگست کو استعفیٰ دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کے بعض ارکان وزارتِ صحت کی جانب سے اتھارٹی کے معاملات میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تحفظات رکھتے تھے۔ سانحہ پمز کے بعد آئی ایچ آر اے پر ہونے والی تنقید بھی بورڈ اراکین کے لیے تشویش کا باعث بنی۔
دوسری جانب یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ پمز کے واقعے سے آئی ایچ آر اے کو براہِ راست جوڑنا درست نہیں، کیونکہ آئی ایچ آر اے ایکٹ کے تحت اتھارٹی کو سرکاری اسپتالوں، بشمول پمز، کی معمول کی انسپکشن کا اختیار حاصل نہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سرکاری اسپتال وزارتِ قومی صحت کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ ان اداروں کی انسپکشن کے لیے بھی متعلقہ وزارت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران آئی ایچ آر اے بورڈ کے متعدد ارکان کے استعفوں کے باعث ادارے کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک رکن اس سے قبل تقریباً چھ ماہ پہلے اپنے عہدے سے الگ ہو چکا تھا۔
سابق چیئرمین ڈاکٹر ریاض جنجوعہ کی جانب سے استعفے کی وجہ ذاتی وجوہات بتائی گئی تھی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سانحہ پمز کے دوران میڈیا میں ہونے والی تنقید اور ٹرولنگ سے بھی ناخوش تھے۔
