لاہور ہائیکورٹ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا تبدیل کرتے ہوئے اسے پہلے سے کاٹی گئی قید کی مدت تک محدود کردیا۔ ملزم 12 سال، 11 ماہ اور 2 دن جیل میں گزار چکا ہے۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم کی جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (ب) سے تبدیل کرکے دفعہ 302 (سی) کے تحت کردی۔ عدالت کے مطابق دو گروپوں کے درمیان رقابت کی بنیاد پر قتل کو پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ شواہد کے مطابق ملزم نے اچانک تصادم کے دوران ہاکی کا وار کیا جو مقتول کی موت کا سبب بنا۔
عدالت نے مقتول کے ورثا کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کا حکم دیا۔ فیصلے میں پنجاب حکومت کو سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے اور پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 میں عدالتی صوابدید کے لیے ترامیم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
