ڈی ایٹ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکرٹری جنرل ایمبیسڈر سہیل محمود نے کہا ہے کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے نجی شعبے کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے باہمی تجارتی حجم کو 2030 تک 500 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات اور نجی شعبے کی بھرپور شمولیت ضروری ہے۔یہ بات انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے زیر اہتمام ’’ڈی ایٹ ممالک کے درمیان معاشی انضمام، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب عرفان سومرو، ڈی ایٹ رکن ممالک کے سفارت کاروں، کاروباری رہنماؤں، برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایمبیسڈر سہیل محمود نے کہا کہ ڈی ایٹ کی معاشی صلاحیت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے (D-8 PTA) پر مؤثر عملدرآمد، علاقائی ویلیو چینز کا فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت کو مزید بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 1.3 ارب ہے، جبکہ ان کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً 5 ٹریلین امریکی ڈالر اور باہمی تجارت تقریباً 160 ارب ڈالر ہے، جس میں مزید اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔سیکرٹری جنرل ڈی ایٹ نے حکومتوں، چیمبرز آف کامرس اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ مضبوط کاروباری شراکت داری کے ذریعے پالیسی فریم ورک کو عملی تجارتی نتائج میں تبدیل کریں۔ انہوں نے مصر کی جانب سے ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے کی توثیق اور پاکستان کی جانب سے اس پر عملدرآمد کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈی ایٹ ممالک میں وسیع معاشی صلاحیت موجود ہے، جسے مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ایٹ ایجنڈے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کے تحت سالانہ اجلاس، ایک خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور کاروباری افراد کے لیے ویزا سہولیات کو آسان بنانے سمیت مختلف تجاویز پیش کیں۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ نجی شعبہ علاقائی معاشی انضمام کو آگے بڑھانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کاروبار سے کاروبار روابط، بینکاری و مالیاتی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کے آزادانہ بہاؤ اور قومی چیمبرز کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری جنرل ڈی ایٹ سہیل محمود نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈی ایٹ سیکرٹریٹ رکن ممالک، چیمبرز آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور معاشی انضمام کے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی عزم، تجارتی معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد اور ڈی ایٹ ممالک میں نجی شعبے کی فعال شمولیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔