لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں کام کرنے والے اہل ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کے قانونی حقوق دینے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے 25 درخواستوں سمیت متعلقہ آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کی جانب سے ملازمین کو مستقل ورکرز کا درجہ دینے سے انکار کے احکامات غیر قانونی قرار دے دیے۔
عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جو ملازمین مستقل نوعیت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مسلسل نو ماہ سے زیادہ عرصے تک کام کرتے رہے ہیں، وہ قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں مستقل ورکرز کا درجہ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
عدالت کے مطابق ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کے اصول کے منافی ہوسکتا ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ملازمین کو بار بار 89 روزہ کنٹریکٹ پر رکھنا ان کے کام کی مستقل نوعیت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اسی طرح مستقل ورکرز کے حقوق کے لیے الگ نوٹیفکیشن جاری کرنا بھی لازمی نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین اسٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت قانونی تحفظات اور حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی ملازم کو زبانی حکم کے ذریعے ملازمت سے فارغ نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقصد کے لیے تحریری حکم، واضح وجوہات اور متعلقہ ملازم کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی کا اطلاق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی ہوگا۔
تاہم فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ مستقل ورکرز کا قانونی درجہ ملنے سے ملازمین خودبخود سول سرونٹ یا مستقل سرکاری ملازم نہیں بن جائیں گے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ملازمین کے واجبات اور معاوضوں کا الگ سے تعین کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کا مناسب موقع فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے
