اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے اجلاس میں پی ڈبلیو ڈی کے سابق ملازمین کی پنشن اور واجبات کی عدم ادائیگی کا معاملہ زیر بحث آیا، جس کے دوران وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے اعتراف کیا کہ سسٹم کی خامیوں کے باعث مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور نظام ناکام ہوچکا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر بٹ کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی کے سابق ملازمین کو مختلف سرکاری اداروں میں ایڈجسٹ تو کیا گیا، تاہم بعض ملازمین کو پنشن اور دیگر واجبات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اجلاس میں سینیٹر خالدہ عطیب نے بتایا کہ 100 سے زائد خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر دورانِ ملازمت انتقال کرگئے، لیکن انہیں تاحال واجبات ادا نہیں کیے گئے۔ انہوں نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے پنشن معاملے کو انتہائی حساس قرار دیا۔
فنانس ڈویژن کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ورک چارج ملازمین پنشن کے حقدار نہیں، جبکہ کمیٹی میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ 2007 میں فنانس ڈویژن کی جانب سے ملازمین کو پنشن کا اہل قرار دینے کا خط موجود تھا۔ تاہم موجودہ حکام نے اس خط کے اجرا سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فنانس ڈویژن نے خط جاری نہیں کیا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے معاملہ ایف آئی اے کو بھیجنے کا عندیہ دیا۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے اور کئی ملازمین کو تنخواہیں بھی مل رہی ہیں، تاہم پنشن سے متعلق قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں اب بھی برقرار ہیں۔
وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ اداروں کے مسائل کی بڑی وجہ نظام کی کمزوریاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کا جواب بعد میں وزرا کو دینا پڑتا ہے۔
وزیر ہاؤسنگ نے مزید کہا کہ ’’وزیر داخلہ نے صحیح کہا ہے، سسٹم فیل ہوچکا ہے‘‘ اور موجودہ نظام میں انسانی بنیادوں پر بھی بہت سے معاملات حل نہیں ہو پاتے۔
اجلاس کے دوران وزیر ہاؤسنگ کے بعض الفاظ پر سینیٹر خالدہ عطیب نے احتجاج بھی کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ جن ملازمین نے اپنی پوری ملازمت ادارے کو دی، ان کے واجبات اور پنشن کی ادائیگی ان کا حق ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ پنشن سے متعلق سمری تین روز کے اندر وزیراعظم کو بھجوائی جائے، بصورت دیگر وزیر داخلہ کو کمیٹی میں طلب کیا جائے گا۔
کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے پنشن اور واجبات کے مسئلے کو جلد حل کرنے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات پر بھی زور دیا۔
