اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہوئے اور ان کی جماعت حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے۔
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 45 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اب تک 23 نشستیں جیت چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 تاریخ کو انتخابات کے تیسرے مرحلے کے فوراً بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔
ان کے مطابق دوسرے مرحلے میں 20 نشستوں پر پولنگ ہوئی، جن میں سے 13 نشستیں مسلم لیگ (ن) نے حاصل کیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی تین نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مظفرآباد کی چاروں نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں میں سے 10 پر مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی، جبکہ باقی دو نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے نواز شریف کے وژن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) عوامی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت تشکیل دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت عوامی مسائل کے حل اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے کام کرے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنا اللہ نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی الزام عائد کیا کہ مظفرآباد میں بعض عناصر کے ساتھ مل کر ہنگامہ آرائی کی گئی اور پولیس کی آمد پر فائرنگ بھی ہوئی، جس کے باعث ایک شخص جان کی بازی ہار گیا اور ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چودھری لطیف اکبر پر قاتلانہ حملے کا تاثر دیا گیا، حالانکہ ان کے بقول ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور بعد ازاں میڈیکل معائنہ بھی نہیں کرایا گیا۔
نوٹ: اس خبر میں انتخابی نتائج، الزامات اور دیگر دعوے رانا ثنا اللہ کے پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ سیاسی جماعتوں کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
