لاہور: فیصل آباد ایئرپورٹ پر 92 سکھ یاتریوں کو بھارت روانگی سے روکے جانے کے معاملے پر پنجاب کے سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور مہندر پال سنگھ نے حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مہندر پال سنگھ کے مطابق چند روز قبل فیصل آباد ایئرپورٹ پر 92 پاکستانی سکھ یاتریوں کو اچانک بورڈنگ سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ بھارت میں واقع شری ہیم کنٹ صاحب کی یاترا کے لیے روانہ نہیں ہوسکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومت اور متعلقہ حکام سے پہلے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے پر سکھ سنگت کی ہدایت پر انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کے لیے الٹی میٹم دیا ہے۔
مہندر پال سنگھ نے کہا کہ شری ہیم کنٹ صاحب کی یاترا کا سیزن سرد موسم کے باعث چند ہی روز میں ختم ہونے والا ہے، اس لیے یاتریوں کے سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو جلد دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان سے ہندو یاتریوں کے دو وفود بھی بھارت روانہ ہوئے۔ ان کے مطابق 15 ستمبر کی رات 84 ہندو یاتری کراچی سے ابوظہبی کے راستے نئی دہلی پہنچے، جبکہ 16 ستمبر کو مزید 118 یاتری بھارت روانہ ہوئے۔
ان یاتریوں کا مقصد مدھیہ پردیش کے اشوک نگر میں واقع شری آنند پور صاحب آشرم کی زیارت بتایا گیا ہے۔
مہندر پال سنگھ کا کہنا ہے کہ دونوں ہندو یاتری وفود کراچی سے روانہ ہوئے اور پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تھے، جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھ یاتریوں کو فیصل آباد ایئرپورٹ پر سفر سے روک دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر 92 سکھ یاتریوں کے سفر کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو ان کی مذہبی یاترا متاثر ہونے کے ساتھ سکھ برادری کے جذبات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
