اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مستحق اور ضرورت مند بچوں کی کفالت سے متعلق اہم رہنما اصول جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے معاملات میں جہاں حالات بیت المال کی معاونت کے متقاضی ہوں، عدالتیں متعلقہ کیس غور اور امداد کے لیے بیت المال کو بھیج سکتی ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے دو ہندو نابالغ بچیوں کی مالی معاونت کے لیے بیت المال کو دی گئی ہدایت برقرار رکھی گئی۔
13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اگر کسی مقدمے کے حالات بظاہر بیت المال سے مدد لینے کا تقاضا کرتے ہوں تو مناسب طریقہ یہی ہوگا کہ معاملہ متعلقہ ادارے کو غور کے لیے بھجوا دیا جائے۔
عدالت کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت بیت المال اپنی متعلقہ پالیسی اور اہلیت کے مقررہ معیار کے مطابق درخواست گزار کی صورتحال کا جائزہ لے کر امداد کی نوعیت اور اس کی حد کا تعین کرسکتا ہے۔ اس طرح عدالت مستحق فرد کو متعلقہ فلاحی ادارے تک پہنچانے میں کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ ادارے کے امدادی نظام اور دائرہ کار میں بھی مداخلت نہیں ہوتی۔
دو نابالغ بچیوں کی کفالت کا مقدمہ
مقدمے کے مطابق ہندو خاتون ریتا کے شوہر روی کمار نے 2017 میں خودکشی کرلی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد ریتا کے پاس اپنی اور اپنی دو بیٹیوں جیسیکا اور سانیکا کی کفالت کے لیے آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں تھا۔
خاتون نے بچیوں کے اخراجات کے لیے ان کے دادا رام راج سے نان و نفقہ کے حصول کی خاطر فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم رام راج خود بھی عمر رسیدہ تھے، ان کی اپنی کوئی مستقل آمدن یا رہائش نہیں تھی اور وہ دھرم شالا میں مقیم تھے۔
فیملی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے رام راج کو حکم دیا تھا کہ وہ دونوں نابالغ بچیوں کو ماہانہ 3،000، 3،000 روپے ادا کریں، جبکہ رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ بھی کیا جانا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
رام راج نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ بچوں کی کفالت کی قانونی ذمہ داری دادا پر عائد نہیں ہوتی اور فریقین میں سے کوئی بھی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی مالی پوزیشن میں نہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان بیت المال کو ہدایت کی کہ جیسیکا اور سانیکا کو باقاعدہ مستحقین کے طور پر رجسٹر کیا جائے اور دونوں بچیوں کو شادی تک ماہانہ 10،000 روپے وظیفہ دیا جائے، جبکہ اس رقم میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی کیا جائے۔
بیت المال نے سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا اہم اصول
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے حالات میں عدالت کا بیت المال سے رجوع کرنے کی ہدایت دینا قابلِ اعتراض نہیں، بشرطیکہ معاملہ ان مقاصد اور دائرہ کار سے متعلق ہو جن کے لیے بیت المال قائم کیا گیا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ اسی نوعیت کے مقدمات میں ضرورت مند افراد کے معاملات متعلقہ فلاحی ادارے کو بھجوائے جاسکتے ہیں تاکہ وہ اپنی پالیسی اور مقررہ اہلیت کے مطابق امداد کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔
