پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پلیئنگ الیون میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس پر کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔
پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی جانب سے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرنے والے فاسٹ بولر محمد عباس کو دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ انہوں نے پہلے میچ میں مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی بھی شامل تھی۔
اگرچہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو بیٹنگ لائن کی ناکامی کے باعث 90 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن دوسرے میچ میں ٹیم انتظامیہ نے محمد عباس کی جگہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ کیپ دے دی۔
کپتان بابر اعظم کے مطابق ٹیم نے پچ کی نوعیت اور میچ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے چار تبدیلیاں کیں، جبکہ محمد عباس کو بھی انہی حالات کے پیش نظر آرام دیا گیا۔
دوسری جانب اس فیصلے پر سابق کرکٹرز اور شائقین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 1980 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی بولر کو ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کے باوجود اگلے ہی ٹیسٹ میچ کی پلیئنگ الیون سے باہر رکھا گیا ہو۔
اس سے قبل 1979-80 کے بھارتی دورے میں احتشام الدین کو بھی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کے باوجود اگلے میچ میں جگہ نہیں ملی تھی، جب ٹیم میں عمران خان کی واپسی ہوئی تھی۔
ادھر محمد عباس کی جگہ ڈیبیو کرنے والے عبید شاہ اپنے ابتدائی میچ میں مہنگے ثابت ہوئے اور انہوں نے صرف 9 اوورز میں 56 رنز دیے، جس کے بعد ٹیم سلیکشن پر مزید بحث شروع ہو گئی۔
