اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں مجموعی طور پر 16 بچے موجود تھے۔ آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، جس کے بعد ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی۔ کارروائی میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔
ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی، جبکہ بعد میں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکے کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو آتشزدگی کے محرکات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حادثے کے وقت اسپتال کا عملہ موجود تھا، جس میں 2 ڈاکٹرز اور 4 نرسز شامل تھیں۔ ان کے مطابق ایک ڈاکٹر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بچے کو محفوظ نکال لیا۔
رانا عمران سکندر کا کہنا تھا کہ ماضی میں نومولود بچوں کی چوری کے واقعات کے باعث نرسری میں داخلے کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق اسپتال میں فائر سیفٹی کا نظام موجود ہے اور اگر تحقیقات میں کسی فرد کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق نرسری میں آکسیجن کے 24 سلنڈرز موجود تھے، تاہم امدادی کارروائی کے دوران ریسکیو ٹیموں کو کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ریسکیو حکام نے آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل بھی مکمل کیا، جبکہ جاں بحق ہونے والے تمام نومولود بچوں کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔
واقعے نے اسپتالوں میں نومولود بچوں کے لیے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور حفاظتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد حادثے کی اصل وجوہات اور ممکنہ غفلت کے بارے میں مزید حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔
