فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین نے ایک سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد اضافی وقت میں ارجنٹائن کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول 106ویں منٹ میں فیران ٹوریس نے کیا۔ نیکو ولیمز کے ہیڈر کے بعد ملنے والی گیند پر ٹوریس نے طاقتور شاٹ لگایا جو سیدھا جال میں جا پہنچا اور اسپین کی فتح یقینی بن گئی۔
اگرچہ شائقین ایک تیز رفتار اور دلچسپ فائنل کے منتظر تھے، لیکن میچ کے دوران بار بار فاؤلز، سخت ٹکراؤ اور کھیل رکنے کی وجہ سے مقابلہ اپنی متوقع روانی برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کے باوجود اسپین نے ابتدا ہی سے زیادہ مؤثر کھیل پیش کیا اور کئی خطرناک حملے کیے، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے شاندار بچاؤ کرتے ہوئے متعدد یقینی گول روک دیے۔
ارجنٹائن کو بڑا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب مڈفیلڈر اینزو فرنانڈیز کو خطرناک ٹیکل پر دوسرا پیلا کارڈ دکھایا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں میدان چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد دفاعی چیمپئن ٹیم اضافی وقت میں صرف دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتی رہی۔
اضافی وقت میں بھی مارٹینیز نے بہترین کارکردگی دکھائی، لیکن 106ویں منٹ میں وہ فیران ٹوریس کے زبردست شاٹ کو روکنے میں ناکام رہے اور یہی گول میچ کا فیصلہ ثابت ہوا۔
اسپین کی جانب سے لامین یامال، میکل اویارزابال اور نیکو ولیمز مسلسل ارجنٹائن کے دفاع پر دباؤ ڈالتے رہے۔ نیکو ولیمز کا ایک گول فاؤل کی وجہ سے مسترد بھی کر دیا گیا۔
فائنل کے موقع پر میدان سے باہر بھی خاصا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خصوصی طور پر میچ دیکھنے اسٹیڈیم پہنچے، جبکہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ہاف ٹائم شو بھی منعقد کیا گیا، جس میں شکیرا، میڈونا اور جسٹن بیبر نے پرفارم کر کے شائقین کو محظوظ کیا۔
اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے اپنی دوسری مردوں کی عالمی ٹرافی جیت لی اور ایک منفرد ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اسپین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے پاس ایک ہی وقت میں مردوں اور خواتین دونوں کے فیفا ورلڈ کپ ٹائٹلز موجود ہیں۔
اختتامی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فاتح ٹیم کو ٹرافی اور تمغے پیش کیے، جبکہ فیفا نے اسپین کے ہر کھلاڑی کو یادگاری انگوٹھی بھی دی۔
2010 میں پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے بعد اسپین نے دوسری بار ورلڈ کپ فائنل جیت کر اپنی عالمی برتری ایک بار پھر ثابت کر دی۔
دوسری جانب ارجنٹائن اپنی تاریخ میں ساتویں بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچی تھی۔ اس سے قبل وہ 1978، 1986 اور 2022 میں عالمی چیمپئن رہ چکی ہے اور مسلسل دوسری ٹرافی جیتنے کی امید رکھتی تھی، تاہم اس بار کامیابی اس کے حصے میں نہ آ سکی۔
یہ فائنل لیونل میسی کے ممکنہ آخری ورلڈ کپ میچ کے طور پر بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز تھا۔ شائقین کو امید تھی کہ وہ اپنی ٹیم کو ایک اور عالمی اعزاز دلوائیں گے، لیکن اسپین کے مضبوط دفاع اور منظم کھیل کے سامنے ارجنٹائن اپنی منزل حاصل نہ کر سکی۔
