لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔
محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کی جانب سے طلب کیے جانے کے معاملے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ وہ گزشتہ ہفتے این سی سی آئی اے کے لاہور دفتر میں پیش ہوئے تھے جہاں انگلینڈ کے حالیہ دورے کے حوالے سے ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان کے ساتھ امام الحق کو بھی طلب کیا گیا تھا اور دونوں کھلاڑیوں کو سفری، مالی، ذاتی اور کرکٹ کیریئر سے متعلق سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا۔
امام الحق نے مبینہ طور پر 15 ستمبر تک اپنے جوابات جمع کرا دیے، جبکہ محمد رضوان نے تحقیقات کی نوعیت اور این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضات اٹھائے۔
رضوان کی جانب سے وکیل عمیر قاضی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے کے طلبی نوٹس قانونی اختیار کے بغیر جاری کیے گئے۔ وکیل نے عدالت سے نوٹس کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ سماعت کے دوران عدالت نے رضوان کے وکیل کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے اور متعلقہ فورم پر پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔
