اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں سگریٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری، ٹیکس چھوٹ کے سرٹیفکیٹس اور مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی۔
اجلاس میں ٹیکس چھوٹ کے سرٹیفکیٹس کے معاملے پر ایف بی آر حکام کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ معاملہ تقریباً ایک ہزار 120 ارب روپے کے ٹیکس چھوٹ سرٹیفکیٹس سے متعلق ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض کمپنیاں مسلح افواج کے خلاف مبینہ پراپیگنڈا کرنے کے لیے فنڈنگ کرتی ہیں۔ کمیٹی نے ایسے اداروں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ ٹیکس چھوٹ والے علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے معاملات کی بھی چھان بین کا حکم دیا گیا۔
کمیٹی پر دباؤ کا دعویٰ
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد اس کے خلاف مہم چلائی گئی اور اسے ختم کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض مواقع پر کمیٹی کا اجلاس ہوتے ہی متعلقہ سیکٹر کے خلاف کارروائیاں شروع ہوجاتی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ٹیکس چوری میں سگریٹ مافیا ملوث ہے، جبکہ جس افسر نے مبینہ طور پر اصل ٹیکس چوری کی نشاندہی کی، اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
سیف اللہ ابڑو نے مزید کہا کہ سینیٹ سوسائٹی کے معاملے پر بھی انہیں اندرونی سطح پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور بعض اوقات بیرونی دباؤ کے مقابلے میں کمیٹی کے اپنے اسٹاف کی جانب سے زیادہ مشکلات پیدا ہوئیں۔
ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا گیا
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے تحقیقات میں ایف آئی اے کے افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نعمان صدیق، ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی اور فیضان کی خدمات کی تعریف کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رپورٹ کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھی بھجوایا جانا چاہیے تاکہ متعلقہ کمیٹی اس کا جائزہ لے سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کا مقصد تجاویز دینا اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ادارے ایف بی آر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان معاملات کے باعث سیکیورٹی اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، اسی لیے کمیٹی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اگر اداروں سے وابستہ کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری سیکیورٹی فراہم کرنا ہے اور یہ کام جاری رکھا جائے گا۔
فاٹا اور پاٹا کے نام پر مال کی ترسیل کا معاملہ
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کے نام پر مال کی وصولی ہورہی ہے، تاہم یہ سامان دیگر شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ جرم کے زمرے میں آتا ہے اور سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے سرکاری گودام سے سگریٹس کے کارٹن چوری ہونے کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیر خزانہ سے بھی بات کی گئی تھی، تاہم ان کے بقول نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔
انہوں نے کہا کہ جس افسر کو اس معاملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، وہ دو سال کی رخصت پر بیرونِ ملک چلا گیا۔ اجلاس میں اس معاملے کی تحقیقات میں ایف آئی اے کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
طلال چوہدری اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی
اجلاس کے دوران وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے درمیان بھی گرما گرمی ہوئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ قانون سازی کسی شخصیت کو دیکھ کر نہیں کی جاتی اور معاملات قانون کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے ملازم نہیں اور گفتگو بھی قانون کے دائرے میں رہ کر ہوگی۔
اس پر سیف اللہ ابڑو نے طلال چوہدری کے رویے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کسی معاملے میں سینیٹرز کی بات آتی ہے تو وہ مخالفت کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
سیف اللہ ابڑو نے مزید کہا کہ طلال چوہدری کے طرزِ عمل کے حوالے سے شکایات موجود ہیں اور بعض معاملات میں وہ ہر بل کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے دونوں رہنماؤں کو خاموش کرانے اور اجلاس کی کارروائی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
